Monday, 9 December 2013

[PF:172913] Fwd:



---------- Forwarded message ----------



کہتے ہیں چین میں کسی جگہ ایک عورت،  اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ ، دنیا و ما فیھا سے بے خبر اور اپنی دنیا میں مگن،  خوش و خرم زندگی گزار رہی تھی کہ ایک دن اس کے بیٹے کی اجل آن پہنچی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ عورت کیلئے کل کائنات اس کا بیٹا چھن جانا ایک ناقابل برداشت صدمہ تھا۔ اُس کا ذہن نظام قدرت کو ماننے کیلئے تیار نہیں تھا۔ روتی پیٹتی  گاؤں کے حکیم کے پاس گئی اور اسے کہا وہ اپنی ساری جمع پونجی خرچ کرنے کو تیار ہے  جس کے عوض بس  ایسا کوئی  نسخہ بتا دے جس سے اس کا بیٹا لوٹ آئے۔

حکیم صاحب اس غمزدہ عورت کی حالت  اور سنجیدگی دیکھ چکے تھے، کافی سوچ وبچار کے بعد بولے، ہاں ایک نسخہ ہے تو سہی۔ بس علاج کیلئے ایک ایسے ننھے سے سرسوں کے بیج کی ضرورت ہے جو کسی ایسے گھر سے لیا گیا ہو جس  گھر میں کبھی کسی غم کی پرچھائیں تک نا پڑی ہو۔  عورت نے کہا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، میں  ابھی جا کر ایسا سرسوں کا بیج ڈھونڈھ کر لے آتی ہوں۔

عورت کے خیال میں اس کا گاؤں ہی تو وہ جگہ تھی جس میں  لوگوں کے گھروں میں غم کا گزر نہیں ہوتا تھا۔ بس اسی خیال  کو دل میں سجائے اس نے گاؤ ں  کے پہلے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے ایک جوان عورت نکلی۔ اس عورت نے اس سے پوچھا؛ کیا اس سے پہلے تیرے گھر نے کبھی غم تو نہیں دیکھا؟ جوان عورت کے چہرے پر ایک تلخی سی نمودار ہوئی اور اس نے درد بھری مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے کہا؛ میرا   گھر ہی تو  ہے جہاں زمانے بھر کے غموں نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے۔ پھر وہ بتانے لگی کہ کس طرح  سال بھر پہلے اس کے خاوند کا انتقال ہوا جو اس کے پاس چار لڑکے اور لڑکیاں چھوڑ کر مرا، ان کی روزی  یا روزگار کا مناسب بندوبست نہیں  تھا۔آجکل وہ  گھر کا سازوسامان بیچ کر مشکلوں سے گزارہ کر رہے ہیں اور بلکہ اب تو بیچنے کیلئے بھی ان کے پاس کچھ زیادہ سامان نہیں بچا۔

جوان عورت کی داستان اتنی دکھ بھری اور غمگین تھی کہ وہ عورت اس کے پاس بیٹھ کر اس کی غم گساری اور اس کے دل کا بوجھ ہلکا کرتی رہی۔ اور جب  تک اس نے جانے کی اجازت مانگی تب تک وہ دونوں سہیلیاں بن چکی تھیں۔ دونوں نے ایک دوسرے سے دوبارہ ملنے کا وعدہ لیا اور رابطہ رکھنے کی شرط پر عورت اس کے گھر سے باہر نکلی۔

مغرب سے پہلے یہ عورت ایک اور خاتون کے گھر میں داخل ہوئی جہاں  ایک اور صدمہ اُس کےلئے  یہاں منتظر تھا ۔ اس خاتون کا خاوند ایک خطرناک مرض میں مبتلا گھر پر صاحب فراش تھا۔  گھر میں بچوں کیلئے کھانے پینے کا سامان ناصرف یہ کہ موجود  ہی نہیں تھا  بلکہ یہ بچے  اس وقت بھوکے بھی تھے۔  عورت بھاگ کر بازار گئی اور جیب میں جتنے پیسے تھے ان پیسوں سے کچھ دالیں، آٹا اور گھی وغیرہ خرید کر لائی۔ خاتون خانہ  کے ساتھ مل کر جلدی جلدی کھانا پکوایا اور اپنے ہاتھوں سے ان بچوں کو شفقت سے کھلایا۔ کچھ دیر مزید دل بہلانے کے بعد ان سب سے اس وعدے کے ساتھ اجازت چاہی کہ وہ کل شام کو پھر ان سے ملنے آئے گی۔

اور دوسرے دن پھر یہ عورت ایک گھر سے دوسرے گھر اور ایک دروازے سے دوسرے  دروازے پر اس امید سے چکر لگاتی رہی کہ کہیں اسے ایسا گھر مل جائے  جس پر غموں کی کبھی پرچھائیں بھی پڑی ہوں اور وہ وہاں سے ایک سرسوں کا بیج حاصل کرسکے، مگر ہر جگہ ناکامی اس کا  منہ چڑانے کیلئے منتظر رہتی تھی۔ دل کی اچھی یہ عورت لوگوں کے مشاکل ، مصائب اور غموں سے متاثر انہی لوگوں  کا ایک  حصہ بنتی چلی گئ اور اپنے تئیں ان سب  میں کچھ خوشیاں بانٹنے کی کوشش کرتی رہی۔

گزرتے دنوں کے ساتھ یہ عورت بستی کے ہر گھر کی سہیلی بن چکی تھی۔  وہ یہ تک بھولتی چلی گئی  کہ  اپنے گھر سے تو ایک ایسے گھر کی تلاش میں نکلی تھی  جس پر کبھی غموں کی پرچھائیں نا پڑی ہوں اور وہ ان خوش قسمت لوگوں سے ایک سرسوں کے ایک بیج کا سوال کر کے اپنے غموں کا مداوا کر سکے۔ مگر وہ  لا شعوری طور دوسرے کے غموں میں شریک ہو کر ان کے غموں کا مداوا  بنتی چلتی چلی جا رہی تھی۔  بستی کے حکیم نے گویا اسے اپنے غموں پر حاوی ہونے کیلئے  ایسا مثالی نسخہ تجویز کر دیا تھا  جس میں سرسوں کے بیج کا ملنا تو ناممکن تھا مگر غموں پر قابو ہرگز نہیں تھا۔ اور اس   کے غموں پر قابو پانے کا  جادوئی سلسلہ اسی لمحے ہی شروع ہو گیا تھا جب وہ بستی کے پہلے گھر میں داخل ہوئی تھی۔

جی ہاں،  یہ  قصہ کوئی معاشرتی اصلاح کا  نسخہ نہیں ہے،  بلکہ یہ تو ایک کھلی دعوت ہے ہر اس شخص کیلئے جو اپنی انا کے خول میں بند، دوسروں کے غموں اور خوشیوں سے سروکار رکھے بغیر اپنی دنیاؤں میں گم اور مگن رہنا چاہتا ہے۔ حالانکہ دوسروں کے ساتھ میل جول رکھنے اور ان کے غموں اور خوشیوں میں شرکت کرتے سے  خوشیاں بڑھتی ہی ہیں کم نہیں ہوا کرتیں۔ یہ قصہ یہ درس بھی ہرگز نہیں دینا چاہتا کہ اگر آپ اپنی انا کے خول سے باہر نکل آئے تو آپ ایک محبوب اور  ہر دلعزیز   شخصیت بن جائیں گے،  بلکہ یہ قصہ یہ بتانا چاہتا ہے ہے کہ آپ کا یہ معاشرتی رویہ آپ کو پہلے زیادہ خوش انسان بنا دے گا۔


--

میرے کارواں میں شامل کوئی کم ظرف نہیں ہے
جو نہ مٹ سکے وطن پر وہ میرا ہمسفر نہیں ہے


Regards,

Muhammad Shoaib TaNoLi

Karachi Pakistan

Cell #               +92-300-2591223

Facebook :https://www.facebook.com/2mtanoli

Twitter:     tanolishoaib

Skype:    tanolishoaib


 پاکستان زندہ باد   ۔ پاکستان پائندہ باد


Long Live Pakistan

Heaven on Earth
Pakistan is one of the biggest blessings of Allah for any Pakistani. Whatever we have today it's all because of Pakistan, otherwise, we would have nothing. Please be sincere to Pakistan.
Pakistan Zindabad!

ہم پاکستان ایک وطن ایک قوم

IF YOU ARE NOT INTERESTED IN MY MAIL

PLEASE REPLY THIS E_,MAIL WITH THE SUBJECT.. UNSUBSCRIBE




--
--
APPLY FOR RECEIVING DAILY E MAIL CLICK BELOW VEBSITE
http://groups.google.com/group/tanolimail/subscribe?note=1
 
---
To unsubscribe from this group, send email to tanolimail+unsubscribe@googlegroups.com
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out?hl=en-US
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "TaNoLi" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to tanolimail+unsubscribe@googlegroups.com.
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out.




--
http://www.mylivesignature.com/signatures/85860/rehansheik/172ed0a3c8d5a1e8d8dbb56306ac0be0.png
Good programming is 99% sweat and 1% coffee.
http://rehansheik.blogspot.com
If you forward this email, please delete the forward history, including my email address. Remember, erasing the history helps to prevent SPAMMERS from  mining addresses and viruses from being propagated.

--
--
From:
[Pak-Friends] Group Member
Visit Group: http://groups.google.com/group/Karachi-786
Subscription: http://groups.google.com/group/karachi-786/subscribe
===========================================================
¸,.-~*'¨¯¨'*·~-.¸¸,.-~*'[PäK¤.¸.¤F®ï£ñD§]'*·~-.¸¸,.-~*'¨¯¨'*·~-.¸
===========================================================
All members are expected to follow these Simple Rules:
-~----------~----~----~----~------~----~------~--~---
Be Careful in Islamic Discussions;
Bad language and insolence against Prophets (and / or their companions, Islamic Scholars, and saints) is an Instant ban.
Abuse of any kind (to the Group, or it's Members) shall not be tolerated.
SPAM, Advertisement, and Adult messages are NOT allowed.
This is not Dating / Love Group, avoid sending personnel messages to group members.
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Pak Friends" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to karachi-786+unsubscribe@googlegroups.com.
To post to this group, send email to karachi-786@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/karachi-786.
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out.