Friday, 4 October 2013

[karachi-Friends] Purpose of Islam

Dear Brothers and Sisters,

        Sending my latest article on above subject for you and your
circle of friends.




Visit my Blogs for a no nonsense, serious discussion of problems facing the humanity: 

--
--
Be Carefull in Islamic Discussions;
Disrespect (of Ambiyaa, Sahabaa, Oliyaa, and Ulamaa) is an INSTANT BAN
Abuse of any kind (to the Group, or it's Members) shall not be tolerated
SPAM, Advertisement, and Adult messages are NOT allowed
This is not Dating / Love Group, Sending PM's to members will be an illegal act.
 
 
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "Karachi-Friends" group.
To post to this group, send email to karachi-Friends@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to
karachi-Friends+unsubscribe@googlegroups.com
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Karachi-Friends" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to karachi-Friends+unsubscribe@googlegroups.com.
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out.

{ISTABA} Musa slaughterhouse has 13 butcher job openings [13 فرصة عمل]

MUSA Slaughterhouse

6211 N. 56th Street, Tampa, Florida 33610

914-447-4915


 

Contact

   6211 N. 56th. St.

   Tampa, Fl 33610

  www.MusaHalal.com

  914-447-4915

Welcome to MUSA Slaughterhouse

 

Musa opened his first custom slaughter house in the heart of New York City. Since 1989 Musa has grown his reputation as the pioneer of custom slaughter catering to the halal, kosher and custom consumer. Ensuring the selection of live stock, Musa personally traveled from state to state hand selecting each animal prior to arrival in the slaughter plant. Due to consumer demand, Musa decided to expand to a federal plant that is capable of meeting the expanding halal, kosher and custom style slaughter. Musa slaughterhouse will be one of a very few slaughter plants that is able to provide hand slaughtered meat on a large scale that is capable of meeting each growing demand.

"The drive remains the same; my vision is to be able to provide the community with products that are 100% hand slaughtered according to Islamic law at prices that are competitive to modern processing, equipment was specifically designed to meet those needs. My goal is to allow the consumer to come in and witness the slaughter and allow them to be completely comfortable with our slaughter methods, the consumer will no longer need to guess or have doubt on the slaughter method. Our slaughter method is the least painful method for the animals and is the healthiest of methods to our consumers. Our animals are bled accordingly which reduces the amount of bacteria in the meat. I'm bringing the farm to the consumer's front door".


Musa Simreen
President
Musa Slaughterhouse

Now HIRING

 

Musa Slaughterhouse is currently looking to hire 13 butchers. If you have any experience and looking for more training and certification, please contact Musa Slaughterhouse.


--
Mahmoud Elkasaby
ISTABA Management
813-270-5441
www.ISTABA.org SlighMasjid@Gmail.com
join us on FaceBook https://www.facebook.com/istabamasjid
 
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "ISTABA Masjid" group.
To post to this group, send email to istaba-masjid@googlegroups.com
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "ISTABA Masjid" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to istaba-masjid+unsubscribe@googlegroups.com.
To post to this group, send email to istaba-masjid@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/istaba-masjid.
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out.

Re: [PF:172655] قلب و نظر کا اِنقلاب

CNN.  Vbvbbvbbv bc v ccbvv n

On Oct 4, 2013 9:26 AM, "Majid Khatri" <majidkhatri@gmail.com> wrote:

سُلطان الفقر کا پیغام ... قلب و نظر کا اِنقلاب

تحریر: صاحبزادہ سلطان احمد علی

http://alfaqr.net/Urdu/qalb-o-nazar-ka-inqalab

http://muslim-institute.org/

پاکستان دُنیا کی نظر میں ایک جغرافیہ ہے، ایک خطۂ زمین ہے، ایک مملکت ہے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے کے اندر یہ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا راز ہے پاکستان کا وجود خالصتاً رُوحانی وجود ہے ۔ پاکستان کا خواب کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا، پاکستان کا تصور کسی سیاسی کارکن کا دیا ہوا نہیںبلکہ یہ ایک قلندر اور درویش کا دیا ہوا ہے۔ اس کی فائل کے متعلق بے شمار گواہیاں جن کی سند بہت سی کتب میں بہت سی معتبر شخصیّات کی زبانی موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رُوحانی طور پہ کئی لوگوں کو بشارتیں دیں کہ پاکستان کی فائل مجلس نبوی ﷺ سے قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو عطا کی گئی ہے جس فائل کا مقدمہ لڑ کر قائد اعظم (رح) نے اس ملک کو حاصل کیا۔تو ایک یہ اس کا رُوحانی وجود ہے۔اور اسی دن ۔۔۔ ایسے واقعات وقوع پذیر ہوئے جن واقعات میں سے ایک واقعہ سلطان الفقر ششم حضرت سلطان محمد اصغر علی صاحب (رح)کی ولادت ہے۔یہ اس بات کی دلیل اور منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان اس دن تخلیق ہوا جس دن فقر کے سلطانِ ششّم نے کائنات کے اندر جلوہ گر ہوناتھا۔

اگر ہم یہ سمجھیں کہ یہ دونوں واقعات باہم دِگر مماثل نہیں تو یہ غلط ہوگا کیونکہ یہ ہم اس وقت سمجھتے کہ اگر پاکستان کے بنیادی نظریات اور سلطان الفقر ششم کے افکار میں کہیں ذرا برابر تصادم ہوتا تو ہم یہ سمجھتے کہ شاید انکی آپس میں کوئی مماثلت نہیںمگر پاکستان اپنے وجود کے بنیادی نظریات کے اعتبار سے اور سلطان الفقر ششم کے افکار عالیہ جن کا ہم نے مشاھدہ کیااور آج تک کر رہے ہیںان میں کہیں ذرا برابر تصادم نہیںہے ۔ تو اسی لیے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ایک ہی فیضان کی تمام کڑیاں ہیں جو بتدریج آگے چل رہی ہیں۔مَیں تھوڑی سی وضاحت یہ کرنا چاہوں گا کہ پاکستان کے بنیادی نظریات کو اگر آپ دیکھیں تو وہ ایک درویش اور عارف کے نظریات تھے، وہ ایک قلندر کے نظریات تھے جن میں واضح طور پہ یہ بات موجود تھی کہ پاکستان کے اندر ملائیت کا نفاذ نہیں ہوگااور ملائیت کی دو قسمیں ہیںایک مذہبی ملائیت ہے اور دوسری سیکولر ملائیت ۔ نظریاتِ پاکستان نے اور افکارِ سلطان الفقر نے ان دونوں ملائیتوں کی نفی کی ہے ۔ پاکستان خالصتاً عشق اور فقر کی بنیادوں پر قائم ہے اور سلطان الفقر کا پیغام بھی عشق اور فقر ہے۔ اسی طرح پاکستان نفی کرتا ہے ان تمام نظاموں کی جو اللہ اور دِین کی راہ میں رکاوٹ ہیںاور اثبات کرتا ہے خدا کی توحید کا کہ توحید وہ مقام ہے جہاں انسانیت کو ایک نکتہ پہ متحد کیا جا سکتا ہے ۔سلطان الفقر کا پیغام بھی ہم یہی دیکھتے ہیںکہ نفی ہے تمام بتوں کی وہ بت ہم نے اپنی مادی کائنات کے اندر پال رکھے ہوںیا وہ بت ہم نے فرقوںکی اور طبقات کی صورت میں پال رکھے ہوں، سلطان الفقر کا پیغام ان تمام بتوں کی نفی ہے اور اثبات ہے فقط اور فقط توحید کا ۔ جو جملہ حضرت سلطان باھو (رح) نے بار بار اپنی کتب میں لکھاوہ سلطان الفقر کے پیغام کا مغز ہے کہ ''اللہ بس ماسوی اللہ ہوس''یہ مماثلت جب ہم پاکستان او ر سلطان الفقر کے درمیان دیکھتے ہیںتو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اسی دن آپ کا جلوہ گرہونااور پاکستان کا بھی اسی دن معرض وجود میں آنایہ دو مختلف نہیں بلکہ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

اگر ہم سلطان الفقر حضرت سلطان محمد اصغر علی (رح) کے بچپن کا جائزہ لیں تو وہ خالصتاًفقر کے ماحول میں تھا۔ وہ فقر جس میں بے نیازی بھی تھی ، جس میں خودداری بھی تھی، جس میں خودی بھی تھی اور جس میں جنیدی بھی تھی اور اُردشیری بھی تھی۔آپ کی زندگی کے دو واقعات میں سامنے رکھوں گا ایک کا تعلق جنیدی سے ہے اور دوسرے کا تعلق اُردشیری سے ہے۔ آپ ایک واقعہ اکثر فرماتے تھے ﴿راقم نے سلطان الفقر کی زبانِ اقدس سے بارہا مرتبہ یہ واقعہ سنا ﴾ کہ آپ (رح) جب بچپن میں تھے تو آپ کے دادا حضور اور میرے پردادا حضرت سلطان فتح محمد (رح) جو کہ شہبازعارفاں حضرت سلطان محمدعبدالعزیز (رح) کے والدِ گرامی تھے ۔آپ کے ساتھ ایک فقیر رہے جن کا نام بابا احمد تھا۔ بابا احمد جب بالکل قریب المرگ تھے تو چارپائی پر بیٹھے تھے توآپ(رح) قریب سے گزرے تو بابا احمد نے آواز دے کر بلایاکہ '' اَصغر چن میری بات سنیں '' ۔ آپ فرماتے ہیں کہ '' مَیں گیا اور قریب چارپائی پہ بیٹھ گیا تو مجھے بابا احمد نے کہا کہ '' چن ! ساری زندگی ہتھ پیر چماونے ہن یا کجھ کھٹنا ہے؟'' ﴿تمام عمر ہاتھ پاؤں ہی چموانے ہیں یا کچھ حاصل بھی کرنا ہے﴾

تو آپ فرماتے تھے کہ مَیں نے بابا احمد کو بڑی حیرت سے دیکھا اور کہا کہ '' مَیں کَھٹنا ہے'' ﴿میں نے حاصل کرنا ہے ﴾۔تو بابا احمد نے جس طرف حضرت سلطان محمد عبدالعزیز(رح) تشریف فرما تھے اس کمرے کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ

'' اگر کھٹنا ای تے اُس جوان دا پترنہ بنیںاوہدی غلامی کریں '' ۔ ﴿اگر حاصل کرنا ہے تو اُس سے تعلُّق باپ بیٹے والا نہ رکھنا بلکہ طالبِ مولا بن کر رہنا﴾
تو آپ فرماتے ہیں کہ پہلے بھی میرے ذہن میں اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں تھا مگر بابا احمد نے جب یہ کہا تو اس دن سے میں نے یہ قسم کھا لی کہ مجھے ایک وفادار ساتھی نے ایک باوفا مشورہ دیا ہے اور میں انشائ اللہ اس عہد کے ساتھ وفاکروں گا۔ تو پھر آپ فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی حضرت سلطان عبدالعزیز(رح) سے باپ بیٹے والا رشتہ نہیں رکھا کہ جس میں فقط وہ ایک روایتی مسند نشینی اور جانشینی آگے چلتی رہے۔ کیونکہ آپ حضرت سلطان باھو کی اولاد تھے اگر آپ کچھ حاصل نہ بھی کرتے تو پھر بھی لوگوں نے ہاتھ تو چومنے تھے ، لوگوں نے پائوں بھی چومنے تھے ، لوگوں نے نظر نیاز اور نذرانے بھی حضرت سلطان باھو کی نسبت سے دینے تھے ۔ مگر آپ نے اس پہ اکتفائ نہیں کیا اور یہ ہمارا یقین ہے کہ سلطان الفقر بطنِ مادر اور آغوشِ مادر میںبھی سلطان الفقر ہوتا ہے۔ مگر ایک عملی جستجو سنتِ نبوی سے عبارت ہے جیسا کہ رسولِ پاک ﷺ بطنِ مادر میں بھی نبی تھے ،آپ آغوشِ مادر میں بھی نبی تھے ، آپ دائی حلیمہ کی آغوش میں بھی نبی تھے، آپ کی تمام زندگی مبارک نبوت سے خالی نہیں ہے مگر رسولِ پاک ﷺ نے نبوت کی تکمیل کی خاطر عملی جستجو کی اور آپ نے عملی طور پہ اس چیزکو آگے بڑھایا۔

یہ واقعہ تو تھا جو جنیدی کے حوالے سے آپ نے فقرِ محمدی ﷺ کو اپنی ایک میراث گردانتے ہوئے طالبِ مولیٰ کی حیثیّت سے عملی جدوجہد کی اور اس چیز کو پایا ۔

اُردشیری کے حوالے سے حضور سلطان الفقر کے بچپن کا واقعہ آپ اکثر فرماتے تھے کہ مَیں نے اپنی زندگی کے تجربات میں اورزندگی کے بڑے حصے میں دین ہی سیکھا ہے مگر ہمیں اس کے ساتھ دنیا داری کے تقاضے بھی سکھائے گئے۔ دُنیا داری کے تقاضوں کے اندرہمارے خاندان کی جو ایک روایت آرہی تھی گھڑسواری کی ۔ مَیں نے خود گھڑسواری کی ہے اوراُن آداب کے ساتھ کی جو صدیوںسے ہمارے خاندان میں مقرر ہیں۔ آپ اکثر یہ فرماتے تھے کہ جس شخص نے دنیا داری کے گر سیکھنے ہیںوہ حضرت سلطان باھُو کے خاندان کی تازی داری کو سیکھے اسے پتہ چل جائے گا کہ دُنیا داروںکے ساتھ معاملہ کیسے کیا جاتاہے۔ مَیں یقین سے کہتا ہوں کہ جس نے اُن آداب اور ایٹی کیٹس کے مطابق شہہ سواری سیکھی ہے اُس سے بہتر زمانہ شناس کوئی نہیں ہو سکتا۔ شہ سواری میں آپ نے مکمل طور پہ گھوڑے پہ غالب رہنا ہے اور گھوڑے کے ساتھ ظلم بھی نہیں کرنا، زیادتی بھی نہیں کرنی ، مارنا بھی نہیں ، اس کو گالی بھی نہیںد ینی اور اس کو اپنے تابع بھی رکھنا ہے اور تھان پہ گھوڑے کی خوراک میں کمی بھی نہیں آنے دینی اور طاقتور سے طاقتور گھوڑا رکھنا ہے، گھوڑی کی سواری کرنی، کمزور گھوڑے کی سواری نہیں کرنی، منہ زور گھوڑے پر بیٹھنا ہے اسے مارنا بھی نہیں اور اسے قابو بھی رکھنا ہے ۔ تومَیں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ زندگی کے وہ مراحل ہیں جس کو ایک عام انسان یہ سمجھتا ہے کہ یہ کیا کہ آپ باگیں پکڑکے کہتے ہیں اتنا بڑا کوئی گُر ہم نے سیکھ لیا ہے۔ مگر ایک چیز ہمیں ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جو فن آپ کی اُنگلیوں سے آگے چلتا ہے آپ سمجھ لیں کہ اُس فن کاآپ اگر سمندر کے ساتھ بھی موازنہ کرتے ہیںتو آپ اُس فن کی تحقیر کر رہے ہیں۔ گوکہ بہت کم ایسے فنون ہیں جو انگلیوں سے نکلتے ہیں اُن میں ایک راگ ہے اور دوسرا باگ۔یہ دونوں چیزیں انگلیوںسے نکلتیںہیں۔ جو ان دو سے معاملہ کر لیتا ہے انہیں استاد کہتے ہیں، آپ انہیںبڑے لوگ کہتے ہیں۔ گو کہ شریعتِ اسلامی کے مطابق سلسلہ عالیہ قادریہ کے طریقِ کار کے مطابق راگ ہمارے خاندان اور سلسلے میں نہیںہے مگر جو باگ ہے یہ وہ فن ہے کہ جو آپ کو کاروبارِ زمانہ اور دنیا کے گھوڑے پر طاقتور بناتا ہے ، آپ کو بھاری کردیتا ہے۔ اسی دنیا داری کا وہ اثر تھاکہ آج ہم دیکھتے ہیںکہ جب 1987ئ میں مرشد کریم نے جماعت کا سلسلہ شروع کیا تو آپ نے کوئی بلند و بانگ دعوے نہیں کیے، کوئی بڑے بڑے لارے نہیں لگائے، انتہائیLow Profile طریقے سے جماعت کا کام ہوا، کسی کے ساتھ ہماری دُشمنی نہیں ہے، اِن 23 برسوں میں جماعت یا اِس کے Serving ساتھیوں پہ کوئی مقدمہ یا پرچہ نہیںجماعت نے اگر تنقید کی بھی ہے تو اِن الفاظ کے اندر کی ہے کہ آدمی نے اس کو اپنی اصلاح محسوس کیا ہے اس کو اپنے اوپر تنقید محسوس نہیں کیا ۔اسی طرح یہ جو فرقہ واریت ہے، اور تقسیم در تقسیم کا عمل، طبقاتی تفریق ، اس سے نجات بھی ملی اور لوگوں کو محسوس بھی نہیں ہوا کہ یہ اتنی سخت باتیں ہورہی ہیںاور ان کو اتنی آسانی کے ساتھ اتنے آرام کے ساتھ آپ نے پیش کیا ۔ پھر خانقاہی لوگوں کا ایک مزاج ہوتا ہے جو خانقاہی لوگ ہیں ان کو اگر آپ ایک تحریک کی شکل میں لانا چاہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ ایک انہونی کررہے ہیں ،آپ فطرت کے خلاف کر رہے ہیں۔ پچھلی چار صدیوں میں خانقاہی لوگوں نے جمود اور تعطل کاجو مزاج اپنا رکھا ہے اس میں خانقاہ سے کسی تحریک کا شروع ہوجانایقینا کسی ایسے ہی شخص کا کمال ہو سکتا ہے کہ جس کے ہاتھوں کے اندر وہ باگ ہو اور اس باگ کے اوپر اس کی گرفت بڑی مضبوط ہو۔

آپ نے دُنیاوی مشاغل میں زمین داری اور ٹھیکیداری بھی کی ۔ آپ کی دینی زندگی تو تھی ہی قرآن و سُنّت کی عملی تفسیر ! آفرین تو آپ کے فرمائے ہوئے دُنیاوی فیصلوں پہ بھی ہے کہ جِن میں کوئی ایک بھی قرآن کریم اور سُنّتِ رسول سے باہر نہیں ہے مجھے بچپن سے ہی اچھی طرح سے یاد ہے کہ حضور سلطان الفقر اپنے تمام جماعتی اور نجی فیصلوں پہ جیّد و معتبر علمائے کرام سے مشاورت کے بعد ہی حتمی فیصلہ فرماتے جن میں شیخ القرآن مولانا منظور احمد صاحب ، مفتی اشفاق احمد صاحب اور مفتی صالح محمد صاحب کا ذکر خاص طور میں یہاں کرنا چاہوں گا ایک بہت ہی مشہور شعر ہے کہ

ﷺ جن کی ہر ہر ادا سُنّتِ مصطفی
ایسے پیرِِ طریقت پہ لاکھوں سلام

آپ نے رسولِ کریم ﷺ کی سنت اور قرآن کے احکام 1947ئ سے اپنے مرشد اور اپنے والد کی بارگاہ سے سننا شروع کیے اور آپ کی تمام زندگی قرآن اور سنت کو ایک راہنمائ اصول بنا کے گزری ہے اور رسولِ پاک ﷺ نے جس طرح چالیس سال کی عمر میںاعلانِ نبوت فرمایا تھامیرے مرشد ِ کریم نے اس سنت کو زندہ کیااور یہ انٹینشنلی نہیں تھا کہ یہ بات ریکارڈ پہ آئے گی کہ ہم نے چالیس سال کی عمر میں یہ کیا بلکہ یہ قرآن و سنّت کی عملی تفسیر ہونے کا ثبوت ہے کہ قدرت نے یہ اتفاق بنایا کہ1981ئ میں حضرت سلطان محمدعبدالعزیز (رح) کا انتقال ہوتا ہے تو 1986ئ تک حضرت سلطان محمد صفدر علی(رح) مسندِ ارشاد پہ جلوہ فرما ہوتے ہیںتو اس کے بعدسلطان محمد صفدر علی صاحب کے انتقال کے بعد 1986ئ کے آخر میں آپ مسند پر جلوہ فرما ہوئے۔ 1987ئ میں آکر آپ نے جماعت کی عملی شکل کا اعلان کیاتو اس سے ہمیں پیغام یہ ملتا ہے کہ وہ اسباب ایسے بنے اور حالات و واقعات ایسے پیدا ہوئے کہ اتفاقاً آپ کی عمر چالیس برس کی ہوئی آپ نے تحریک کا اعلان کیا یہ اس سنت کی ترجمانی تھی کہ جو رسولِ کریم ﷺ نے اعلانِ نبوت کی سب سے پہلی سنت آپ نے بنائی اور اپنائی تھی ۔ اس میں ایک بات کو واضح کردوں کہ ایک چیز کا رسول اللہ پہ اختتام ہوا ، ایک چیز رسول اللہ سے شروع ہوئی۔ اختتام ہوا نبوت کااور آغاز ہوا فقر کا اور نبوت کے دوران اعلانِ نبوت سے بھی اگر آپ دیکھیںتو رسولِ پاک ﷺ تاریخ نبوت میں یقینا امام الانبیائ بھی خاتم النبیین بھی ہیںاور تاریخ میں یہ آپ ہی کا نام ہے آپ نے بیک وقت دو ڈیوٹیا ںسرانجام دیںاللہ تعالیٰ کی ۔ ایک تو آپ نے اس نبوت کی ڈیوٹی سرانجام دی جو بطورِ نبی آپ کے ذمہ تھی دوسری آپ نے بطورِ مرشد وہ ڈیوٹی سرانجام دی جو کہ فقر کی دولت آپ سے چلی تھی یعنی رسول پاک ﷺ بیک وقت مسندِ نبوت پہ بھی جلوہ فرما تھے اور مسندِ ارشاد پہ بھی جلوہ فرما تھے کیونکہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا اس لیے جو مسندِ ارشاد ہے وہ رسول اللہ کے فقر کی وراثت ہے اور اس فقر کی مسند کو جو اپناتا ہے اس کو فقیر کہتے ہیں ، اس کو صاحب ارشادکہتے ہیں، اس کو مرشد کہتے ہیںاور یہ مرشد کی سب سے بڑی نشانی ہوتی ہے کہ وہ رسولِ پاک کی سنت کو زندہ رکھتا ہے۔

ایک چیز بڑی واضح ہے کہ مروّجہ خانقاہی نظام کی مخالفت اور کھلے لفظوں میں اس کی اصلاحات کی بات ہم نے اپنے مرشدِکریم کی بارگاہ سے دیکھی بھی اور سنی بھی۔ مجھے لفظ بلفظ آپ کے وہ الفاظ یاد نہیں مگر مجھے وہ مفہوم یاد ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ جس طریقہ کار کے مطابق خانقاہی سلاسل کام کر رہے ہیں اس سے گمراہی میں اضافہ ہو رہا ہے یہ خاموشی سے بیٹھ جائیں لوگ گمراہی سے بچ جائیں گے۔ یہ جو آپ کی بصیرت ، تجزیہ اور Wisdom تھا یہ ان چار سو سال کی اس خانقاہی زوال کی تاریخ کا احاطہ کرتا ہے کہ جو مسند نشینوں نے رویے اپنا رکھے ہیں ۔ آپ اکثر یہ کہتے تھے کہ پیر ہونے کا معیار یہ نہیںکہ آپ پیر کی اولاد ہیں بلکہ پیر ہونے کا معیار اس سے بہت مختلف ہے۔ اگر پیر ہونے کا معیار یہ رکھ دیا جائے کہ میں پیر اس لیے ہوں چونکہ میرا باپ پیر تھااور وہ پیر اس لیے تھا کیونکہ اس کا باپ پیر تھا تو پھر اس کا نتیجہ گمراہی،جہالت اور غفلت کے علاوہ کچھ نہیں نکل سکتا ۔ ایک تو خانقاہی نظام کا یہ پسِ منظر تھا جس کی وجہ سے آپ نے خانقاہی نظام کی مروجہ خرافات کی تطہیر کی اور آپ نے وہ حقیقی نظام جو گنبدِ خضریٰ سے ماخذ ہے اس کی تجدید کی بات کی۔ اس کے اندر آپ نے جو عملی اقدامات فرمائے ان سے ہم یہ جائزہ لے سکتے ہیں کہ کس قدر آپ نے مروجہ خانقاہی نظام کے ابطال کے لیے اور گنبدِ خضریٰ کا نظام جو سلطنتِ مدینہ پر پریکٹس کیا گیااس نظام کے احیائ کے لیے آپ نے یہ عملی اقدامات اٹھائے مثلاً آپ ایک بات فرماتے تھے کہ جو نذر نیاز اور نذرانہ آتاہے یہ کس کی ملکیت ہے ؟ کیا یہ خانقاہ کی ، لنگر کی ملکیت ہے یا اس پیر یا مسند نشین کی جس کو پیش کیا جارہا ہے ؟ آپ نے اس پر روشنی ڈالی کہ یہ جس مسند نشین کو پیش کیا جارہا ہے یہ اس کی ملکیت نہیں ہے یہ لنگر کی ملکیت ہے۔ اور دیکھیں آج جدید سسٹمز کی آپ کو جو ریفارمز نظر آتی ہیں وہ اِسی پر بُنیاد رکھتی ہیں ۔ مَیں آپ کو اس کی مثال دے سکتا ہوں مثلا آپ کوئی فلاحی ادارہ چلاتے ہیں مَیں اگر اُس کو ڈونیٹ کرتا ہوںتو کیا وہ ڈونیشن آپکی ملکیت ہوگی یا اُس ادارہ کی؟یقینا وہ ڈونیشن ادارے کی ملکیت ہے اور وہ قابلِ احتساب ہے ۔ خانقاہ کو جب ہم یہ کہتے ہیںکہ یہ ایک فلاحی ادارہ تھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو جو ڈونیشن دی جاتی ہے جسے ہم اصطلاح کے اندر نذر نیاز کہتے ہیں ڈونیشن بھی کہہ سکتے ہیںوہ ڈونیشن یقینا ادارے کی ملکیت ہوگی۔

پھر ایک اور چیز جو ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے ایک انقلابی تحریک کی بنیاد رکھی اور اس انقلابی تحریک کی بنیاد رکھنے کامطلب یہ تھا کہ یہ خانقاہی لوگ جو سوئے پڑے ہیں، جو دھمالیں ڈالتے ہیں،جو بھنگ رگڑتے ہیں،گھوٹے لگا تے ہیں اور سمجھتے ہیںکہ یہ تصوف ہے ۔ آپ نے کہا کہ یہ لوگ اسی چیز کے اندر مست ہوکر پڑے ہیںان کی انرجی ضائع ہورہی ہے، انکی توانائیاں ضائع ہو رہی ہیں ضروری ہے کہ یہ جو خانقاہوں کے ساتھ ہنڈرڈز آف ملین لوگ پوری دنیا میںوابستہ ہیںاگر ان کی تربیت کر دی جائے انہیںلوگوں کو شیطانیت کے سامنے کھڑا کر دیا جائے انہیں حزب الرحمن کا نمائندہ بنادیا جائے یہ اس کائنات کی تقدیر بدل کر رکھ دیں گے ۔ نوجوان جو سیکولر ہو چکے تھے جو منشیات کی طرف مائل ہوچکے تھے جو لا دینیت کی طرف مائل ہوچکے تھے جو دین سے دور ہوچکے تھے ، جو خدا رسول سے باغی ہو چکے تھے ان نوجوانوں کے دلوں کے اندر آپ نے روح پھونکی اور وہی جوان آج ہم دیکھتے ہیںکہ جب مساجد میں جاتے ہیں، پبلک مقامات میں جاتے ہیں یہ جب بڑے بڑے سکالرز کے ساتھ جاکر بیٹھتے ہیں تو وہاں پہ ان کا ایک سحر طاری ہوتاہے۔ وہ لوگ اس ہستی کامل کی نگاہِ تربیت کے تیار کردہ ہیں۔ ان کے جذبوں کو محفوظ کیا اور ان کو ضائع ہونے سے بچا لیااور ان کو ایک تحریک کا رنگ دیا۔ آج آپ دیکھیں یہ وہی تحریک ہے جو ایک خانقاہ کے اندر رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ ان بنیادوں پہ ہے جو علامہ اقبال نے کہا تھا کہ

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری

رسم شبیری ادا کرنے کے لیے آپ نے خانقا ہ سے یہ لوگ اٹھا دیے۔ میں ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں۔ کہ بے شمار خانقاہیں ہیںہر خانقاہ کے ساتھ تھوڑے یا بہت لوگ Related ہیںاور وہ قصبوں میں بھی ہیں ، وہ دیہاتوں میں بھی ہیں وہ شہروں میں بھی ہیں اور وہ ترقی پذیر ممالک میں بھی ہیں، وہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہیں، وہ چپڑاسی کے عہدوں پر بھی فائز ہیں، وہ منسٹر بھی ہیں، وہ جج بھی ہیں وہ کلرک بھی ہیں، وہ تمام معاشرے میں جگہ جگہ پہ پھیلے ہوئے ہیں۔ اب اگر خانقاہ اپنا کردار ادا کر رہی ہوتی اور خانقاہ اپنے ان عجمی خیالات کے اندر غرق نہ ہو گئی ہوتی تو آج وہ لوگ ملّت کے اِس کٹھن مرحلے میں ایک کردا رادا کر رہے ہوتے ۔ دُنیا کو درپیش چیلنجز سے نبٹ رہے ہوتے۔مگر بدقسمتی سے جب خانقاہ نے اپنے اطواراور شیوے بدل لیے، خانقاہوں سے عمل کی تبلیغ اور دعوت کی بجائے جب رہبانیت کی دعوت نکلنے لگی، اس کائنات کو مسخر کر دینے کی بجائے جب خانقاہوں سے ترک دنیا کی آوازیںنکلنے لگیں اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ پوری عالم انسانیت اندھیرے ، ظُلمت اور جہالت میں ڈوب گئی۔

یہ احیائ جو سلطان الفقر نے اصلاحی جماعت اور عالمی تنظیم العارفین کی بنیاد رکھ کے کیا یہ آپ نے ان سوئے ہوئے لوگوںکو جگایا۔ اور میں نے دیکھا ہے کہ بڑے بڑے ڈاکو ، چور اور Criminal لوگ جب ان کے کانوں میں اس جماعت کی آواز پہنچی ہے ان لوگوں نے اس پہ لبیک کہا ہے اور آج وہی لوگ ہیں جو اصلاح یافتہ ہوکر جب نکلتے ہیںتو ان کے رشتہ دار اس بات پر یقین نہیں کرتے کہ کیا یہ وہی آدمی ہے جو کل تک یہاں پہ ایک لٹیرا تھا، Criminal تھا، سب سے بڑا کرپٹ تھاآج یہ ایک مردِ مسلماں بن کے، ایک مردِمومن بن کے اپنا معاشرتی کردار ادا کررہا ہے۔ الحمد للہ دُنیا اس کی تقلید میں چلتی ہے ۔ دنیا اس کو دیکھتی ہے کہ یہ جاہل لوگ یہ ان پڑھ لوگ جنہوں نے ایک کلاس تک نہیں پڑھی ، جنہوں نے زندگی میںکبھی قرآن کوہاتھ تک نہیں لگایامگر جب وہ سپیکر پہ ، سٹیج پہ آتے ہیں اور وہاں پہ کھڑے ہوکر معرفتِ الٰہی کی اور مقصدِ حیات کی دعوت پیش کرتے ہیں تو لوگ اُنگلیاں منہ میںڈال کر دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم مانتے ہیں اس چیز کو کہ ہاں واقعی یہ علم اکتسابی نہیں بلکہ عطا ہے ۔تو یہ وہ محرکات ہیں،یہ وہ انقلابی تحریک کاایک بنیادی ڈھانچہ ہے جو آپ نے خانقاہی نعم البدل کے طور پہ پیش کیا ۔جسے ہم اصلاحی جماعت اور عالمی تنظیم العارفین کی صورت میں دیکھتے ہیں۔

مَیں تحریکی حوالے سے ایک چیز عرض کروںگا کہ حضور مرشد کریم نے کبھی بھی ظہورِکرامت پہ زور نہیں دیااور اپنے طالبوں کی ظہورِ کرامت کی شعبدہ بازیوں میں تربیت نہیں کی۔آپ نے ہمیشہ جدوجہد اور جہدِ مسلسل اورمحنتِ شاقہ کو سب سے بڑی کرامت کہا ہے۔ مجھے وہ لفظ یاد آتے ہیںجب ڈاکٹر مہاتیر محمد کو ایک تقریب میں اسٹیج سیکریٹری نے مدعو کرتے ہوئے کہا کہ '' اب خطاب کیلئے آتے ہیں '' ایشیائی اقتصادی معجزے '' کے روحِ رواں '' ۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اسٹیج پہ آتے ہی کہا کہ '' میں ایشیائی اقتصادی معجزے کا نہیں بلکہ '' ایشیائی اقتصادی جد ّ و جہد '' کا نمائندہ ہوں '' ۔

جب میں حضور سلطان الفقر کا پیغام اور اس کی پوری روح کو پورے خلوص کے ساتھ دیکھتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے آپ کی ان تعلیمات کو سامنے رکھ کے کہا ہے کہ معجزے سے قوموں کی تقدیریں نہیں بدلتیں، قوموں کی تقدیریں ان کی جہدِ مسلسل اور ان کی ہمت اور ان کی کوشش سے بدلتی ہیں ۔ اگر معجزوں سے تحریکیں چلتیں تو رسول اکرم ﷺ جب طائف سے نکل رہے تھے جبریل امین آکر کہتے ہیں یا رسول اللہ ﷺ آپ کہیں تو ان پہ پہاڑ الٹ دوں آپ نے فرمایا نہیں۔ اب بدر کے میدان میں رسول اللہ ﷺ ، اللہ کی بارگاہ میں یہ سوال کرتے ہیں الٰہ العالمین اگر یہ مٹھی بھر لوگ مٹ گئے تو تیرا نام لیوا کون ہوگا۔اس وقت رسول اللہ ﷺ یہ نہیں کہہ سکتے تھے اللہ کی بارگاہ میں کہ الٰہ العالمین اب یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہے یہ ہم کوشش نہیں کرسکتے ۔ کیا کوشش کروں گا یہاں پہ لوگ شہید ہوجائیں گے اس لیے بہتر یہ ہے کہ ان کفار کے اوپر کوئی پہاڑ رکھ دے ۔ اگر رسول پاک کہتے کہ الٰہ العالمین ان پہ پہاڑ الٹ دے تو کیا خدا وند کریم محبوب ﷺ کی اس دعا اور التماس کی لاج نہ رکھتے ؟ کفار مکہ پہ اس وقت پہاڑ نہ رکھ دیا جاتا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو جنگِ بدر تھی وہ اِسلامی عسکری معجزہ نہیں تھا وہ اِسلامی عسکری کوشش تھی جہاد تھا جو کہ جُہد سے نکلا ہے ۔ نظام معجزوںسے نہیںنافذ ہوتے نظام کوشش سے نافذ ہوتے ہیں۔ حضور سلطان الفقر ششم نے جماعت کو معجزوں سے آگے نہیں بڑھایا، کرامت سے آگے نہیں بڑھایاآپ نے جماعت کو کوشش سے ،محنت سے آگے بڑھایا، دن کو سفر کیے، راتوںکو سفر کیے، بہار میں سفر کیے، خزاں میں سفر کیے،چھائوں میں سفرکیے ، دھوپ میں سفر کیے، گاڑیوں میں ، ہوائی جہاز پہ ،ریل پہ ، گھوڑوںپہ اور پیدل سفر کیے، تکالیف اٹھائیں، کانٹے لگے ، پتھروں کی نوکیں لگیں، چٹانیں چبھیں اور بہت سے لوگ آئے، بہت سے لوگ گئے ، آپ کے پائوں زخمی ہوئے، آپ کے کانٹوں سے اُلجھ کے کپڑے پھٹے اور آپ کو تکالیف ہوئیں مگر آپ نے پوری جدو جہد کی، پوری کوشش کی اور وہ تو وقت کا سلطان تھا، وہ فقر کا سلطان تھا، اُسے کیا ضرورت تھی ؟ کائنات اس کے تصرف میں تھی، اس کے غلام تھوڑے تھے غلامی کرنے والے۔ ایک جگہ پہ تشریف فرما ہوتے اور غلاموں کو وہیںسے آپ Manage فرماتے وہیں سے روانہ کرتے کہ جائو اور اس پیغام کو آگے لے چلو تو کیا غلام نہ نکلتے؟ نکلتے ! مگر مَیں یہ سمجھتا ہوںکہ ہماری نظروں میں ہمیشہ یہ پہلورہنا چاہیے کہ حضور سلطان الفقر جہاں ایک صاحبِ ارشاد مرشد تھے ، جہاںایک تنظیم اور تحریک کے قائد تھے، وہیں آپ نے تحریک کے کارکن کے فرائض بھی سرانجام دیے۔ کانفرنسز اور محافل کے بعد جب لنگر تقسیم ہوتا تھا حضور سلطان الفقر کو دیگ کے قریب بیٹھے اپنے ہاتھوں سے لنگر تقسیم کرتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے۔ وہاں کیا کمی تھی جانثاروں کی؟ ۔

آج ہم دُنیا کے سامنے جاکر جب یہ بات کرتے ہیں تو لوگ اس بات پر یقین نہیں کرتے حضرت سلطان باھو کی وہ ہستی کروڑوں لوگ ایک اشارے پہ اپنی جان نچھاور کردیں اور ایک اتنی بین الاقوامی تنظیم کے قائد یہ مثال رقم کر رہا ہیں کہ آپ اپنے ہاتھوں سے ان لوگوں کے اندر لنگر تقسیم کر رہے ہیں ۔ یاد رکھیں جو تحریک کا قائد ہوتا ہے اس کی ذمہ داریوںکے اندریہ شامل نہیںکہ وہ جلسے میں آئے ہوئے ہر ایک آدمی سے مصافحہ کرے ۔ اس کا کام ہے کہ وہ وہا ں آئے لوگوں کے ساتھ گفتگوکرے، لوگوں کو Massage Deliver کرے اور بس! ۔ آپ نے کبھی کسی تحریک کے قائد کو نہیں دیکھا ہوگا کہ جلسے کے اختتام کے بعد وہ وہاں پہ بیٹھا رہے اور آنے والے جتنے بھی شرکائ ہیں ان سے سلام کر کے جارہے ہیں۔
یہ وہ کمال تھا آپ کے بطورِ کارکن ہونے کے اور بطورِقائد ہونے کے کہ ہر ایک کارکن کو ہر ایک نظریاتی کو آپ نے اپنی نظر سے نوزا ،اپنے کلام سے نوازا اور اپنے معانقے سے، اپنے مصافحہ سے نوازا ، مَیں سمجھتا ہوں کہ تحریک کی تاریخ کے اندر کوئی ایسی مثال نہیں ملے گی، ایسا قائد نہیں ملے گا جو قیادت حضور سلطان الفقر نے کی۔پھر لوگ یہاںپہ تحریکیں چلاتے ہیں اور دو تین چیزیںاتنی ضروری سمجھی جاتی ہیں کہ جب تک کسی قائد کے اندر وہ دو صلاحیتیں نہیں ہیںلوگ سمجھتے ہیں کہ یہ تو تحریک نہیں چلا سکتا ۔ سب سے پہلے یہ کہ قائد کی تقریر کیسی ہے یقینا یہ ایک بہت بڑی خصوصیت اور بہت بڑی کوالٹی ہے۔ قائد کی تحریر کیسی ہے کہ اُس نے دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ مَیں چیلنج سے کہتا ہوں کہ مجھے تاریخ ِ تحریک اور انقلاباتِ عالم کی تاریخ میں ایک قائد ایسا دکھادو جس نے اپنی تحریک میں کبھی خطاب نہیںکیا، جس نے کبھی کوئی تحریر نہیںلکھی ۔
لیکن میری تحریک کے بانی کے خطاب کے بغیر ، اس کی تحریر کے بغیر اس کے کارکن اس کے اشارے پر اپنی جانیں نچھاور کر رہے ہیں اور وہ انقلاب دُنیا کے تمام براعظموں میں پھیل چکا ہے، اس کی بنیادیں پختہ سے پختہ تر ہوتی جارہی ہیں بغیر تقریر کے بغیر تحریر کے ۔ یہ کمال ا ور مثال ہے جو میرے مرشدِ کریم نے اپنی نظر سے اور اپنی نگاہ سے ثبت کی ہے ۔ اور جو شکوہ اقبال نے کیا تھاکہ

کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگماں حرم سے
کہ امیرکارواں میں نہیں خوئے دلنوازی

اور ہم نے دیکھا ہے وہ خوئے دلنوازی والا قائد جس نے کارواں سے ٹوٹے ہوئوں کو جوڑا ہے، جس نے حرم سے بدگمانوں کا یقین مکمل اور مستحکم کیا ہے اور واپس اسی ڈگر پہ لا کر کھڑا کیا ہے جہاں ان کے سامنے توحید و رسالت کے سوا کچھ نہیں ۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ کرامت کی بات کریں کہ بانیٔ اصلاحی جماعت کی کرامت کیا ہے؟ تو اس کی کرامت یہ تھی کہ اس نے بھٹکے ہوئوںکو، بھولوںہوئوںکو اس نے وہ راہ دکھلا دی ہے کہ آج وہی لوگ جنہیںلوگ جاہل کہتے تھے جنہیں لوگ ظالم کہتے تھے، جنہیں لوگ بھٹکا ہوا بھولا ہوا کہتے تھے آج وہی لوگ اس کائنات کے سامنے مثال بن کر نکل رہے ہیں، وہ اس کائنات کے سامنے انقلابی بن کر نکل رہے ہیں، ایک زندہ اور روشن مثال بن کے نکل رہے ہیں۔ وہ مثالیں جو انشائ اللہ رہتی دنیا تک قائم رہیں گی۔
رسمِ شبیری ہمیشہ فقرائ نے ادا کی ہے اور یہ فقرائ کا ہی شیوہ ہے ۔ جب بھی دین پہ لوگوں نے سمجھا ہے کہ اب سورج غروب ہونے کی طرف جارہا ہے تو اس وقت فقرائ نکلے ہیں اور انہوں نے وہ مثال قائم کی کہ دنیا دیکھتی رہ گئی کہ ابھی یہ سورج جو مغرب میں غروب ہورہا تھا یہ اچانک مشرق سے طلوع کیسے ہورہا ہے؟ جس کی ابتدائ سیدنا امامِ عالی مقام سے ہوئی۔

سر داد نہ داد دست در دستِ یزید

ظُلم کے سامنے ڈٹ جانا رسمِ شبیری ہے ۔ دورِ حاضر میں جب ہم یہ کہتے ہیںکہ تنظیم العارفین رسمِ شبیری ادا کررہی ہے تو میں اس کی وضاحت کر دوں کہ یزید صرف وہ نہیں تھاجو امام حسین علیہ السلام کے سامنے کھڑا تھا ، یزید کسی فرد کا نام نہیں ہے، یزید کوئی شخصیت نہیں ہے بلکہ یزید ایک سوچ کا نام ہے ۔ یزیدیت ہمیںشروع دِن سے نظر آتی ہے آپ جنت میں چلیں جائیں آدم حسینیت کی نمائندگی کر رہا ہے اور ابلیس جو بہکانے والا تھا یزیدیّت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام رسمِ شبیری ادا کر رہے ہیںاور نمرودرسمِ یزیدی ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام رسمِ شبیری ادا کر رہے ہیں اور فرعون وہ رسمِ یزیدی ادا کر رہا ہے۔اور جب ہم مدینے میں دیکھتے ہیں تو رسول پاک ﷺ رسمِ شبیری ادا کر رہے ہیںاور ابو جہل رسمِ یزیدی ادا کر رہا ہے، ابو لہب رسمِ یزیدی اد ا کر رہا ہے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں امامِ عالی مقام سیدنا امامِ حسین رضی اللہ عنہ وہ کی رسم ، رسمِ شبیری تھی ان کے مدِّ مقابل رسمِ یزیدی تھی۔اسی طرح بعد میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جہاں بھی حق وباطل کا معرکہ ہوا جو حق پہ تھا اس نے رسمِ شبیری ادا کی ، جو باطل تھا اس نے رسمِ یزیدی ادا کی۔

آج کے دورمیں آ پ دیکھیں کہ یزیدیت کہاں پہ ہے؟ آج یزیدیت مادیت کے رُوپ میں انسانیت کو نگلنے کے لیے بے تاب ہے۔ آج یزیدیت امیریکن اسٹیبلشمنٹ ہے، آج یزیدیت اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ ہے،آج یزیدیّت انڈین اسٹیبلشمنٹ ہے ، آج یزیدیّت وہ سامراج ہے، وہ اِستحصالی قوتیں ہیں جنہوں نے یہاںپہ طبقات قائم کر دیے جو کبھی کیپٹل ازم کے نام پہ آتے ہیں، کبھی سوشل ازم کے نام پہ آتے ہیں ، کبھی کامن ازم کے نام پہ آ تے ہیں اور کبھی سیکولر ازم کے نام پہ آتے ہیںاور اس انسانیت کو خدا کے اس کنبے کو ٹکڑوں میں بانٹتے ہوئے بدمست ہاتھیوں کی طرح پائوں تلے روندتے ہوئے آگے نکل جاتے ہیںیہ سب یزیدیّت ہے اس کے سامنے حُسینیّت اور رسم شبیری ادا کی ہے تو وہ فقرأ نے ادا کی ہے اور ایک تو یہ یزیدیّت ہے دوسری یزیدیّت آپ دیکھیں کہ آج اس دُنیا کے اندر بڑھتی ہوئی مادہ پرستی ہے ، بھائی بھائی کا گلہ گھونٹ رہا ہے کس کی خاطر؟ تین مرلہ کے پلاٹ کی خاطر ،باپ بیٹوں کو قتل کر رہا ہے کس کی خاطر؟ ایک وقت کی روٹی کی خاطر۔

ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو

یہ نفس کی خواہشات ، شیطانی خواہشات ، زِنا ، بدکاری ، بڑھتی ہوئی عریانی ، بڑھتی ہوئی فحاشی ، ٹوٹتا ہوا فیملی یونٹ ، ختم ہوتا ہوا خاندانی ڈھانچہ ، یہ تمام کی تمام یزیدیّت ہے اور پھر اسی طرح ہم دیکھتے ہیں ، دِین سے دُوری ، خدا کی پہچان سے دُوری ، خدا کی معرفت سے دُوری اور مصطفےٰ ﷺ کے عشق سے دُوری ، مصطفےٰ ﷺ کی محبت سے دُوری ، مصطفےٰ ﷺ کی اتباع سے دُوری ، مصطفےٰ ﷺ کی اطاعت سے دُوری اور اہلِ بیت سے دُوری ، صحابہ سے دُوری ، یہ تمام کی تمام چیزیں یزیدیّت کی علامتیں ہیں اور رُوحانیت سے دُوری ، رُوح سے غفلت ، ذکرِ الٰہی سے غفلت، یادِ الٰہی سے غفلت، توحید سے غفلت ،شرک ، کفر، انکارِ نبوت، انکارِ رسالت، توہینِ رسالت یہ تمام کی تمام چیزیں یزیدیّت کی نمائندگی کرتی ہیں اور اس کے سامنے اقبال نے کہا تھا کہ

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین وہ تحریک ہے جو یزیدیّت کے تمام بُتوں کو پاش پاش کرنے کے لیے معرضِ وجود میں آئی ہے اور یہ وہ رسمِ شبیری ہے جو اصلاحی جماعت کے کارکن سفید دستاریں اپنے سَروں پہ سجائے دُنیا کے طول و عرض میں چل رہے ہیں ، پھیل رہے ہیں ، صدا لگا رہے ہیں ، نِدا لگا رہے ہیں کہ نکلو ، حُسینیّت کو دیکھو ، یزیدیّت کو دیکھو ۔ حُسینیّت کو اپنائو اور اِن یزیدی بُتوں کو اپنے قدموں کی ٹھوکروں سے پاش پاش کرتے ہوئے آگے بڑھ جائو ۔

اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ فقرأ کے سلاسل کے اندر ایک تعطل آگیا ، ایک جمود آگیا اور اُس تعطل اور جمود کی بُنیادی وجہ میرے حضور مرشد کریم مجھے اکثر فرماتے تھے کہ دو لوگوں سے بچ کے رہنا ایک وہ آدمی جو بے جا تنقید کرے اور ایک وہ آدمی جو بے جا تعریف کرے تو تصوف میں جو جمود آیا جب اندھی عقیدت ، اندھی تقلید اور اندھی دست بستگی شروع ہوئی اُس نے اُس تصوف کی بنیاد ڈالی جو مدنی رُوحانیت نہیں بلکہ عجمی جوگیّت اور رہبانیّت تھی جس میں ترکِ دُنیا کی تعلیم تھی ، جس میں ترکِ توکل کی تعلیم تھی ، جس میں مجوسیّت کا رنگ تھا ، جس میں پارسیت کا رنگ تھا جس میں وَیدو ںکا رنگ تھا اور آہستہ آہستہ یہ رنگ تصوف پہ چڑھتا گیا اور نتیجتاً تمام چیزیں اس کی لپیٹ میں آگئیں جس جال سے اُمت آج تک اپنے آپ کو نہیں نکال سکی اور یہ رسمِ شبیری ادا کرنی تھی تو فقرأ نے مگر جب ان کے اوپر وہ جال پڑگیا تو پھر یہ رسمِ شبیری بھی تھم گئی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا رسول کریم ﷺ نعوذو باللہ آپ رُوحانیت سے خالی تھے ؟ کیا سیّدنا ابوبکر صدیق رُوحانیت سے خالی تھے ؟ سیدنا عمر فاروق(رض)، سیدنا عثمان (رض) ، سیدنا علی (رض) ،خالد بن ولید(رض) اور حضرت ابو عبیدہ (رض)حضرت معاذ بن جبل اور بڑے بڑے جو ہمارے اسلامی تاریخ کی نامور شخصیات گزری ہیں ، یہ تمام لوگ کیا رُوحانیت سے خالی تھے اگر رُوحانیت جمود طاری کرنے کا نام ہے ، اگر رُوحانیت تعطل کا نام ہے تو پھر وہ کون سے انقلابی تھے جو عرب کے ریگزاروں سے نکلتے ہیں اور دُنیا کے ایک بڑے کونے پر چھا جاتے ہیں اور پوری کائنات کا نقشہ بدل کر رکھ دیتے ہیں اور جہالت کو اُجالوں میں بدل دیتے ہیں اور ظلمت کو نور میں بدل دیتے ہیں ۔

مٹایا قیصر و کِسریٰ کے اِستبداد کو جس نے
وہ کیا تھا ؟زورِ حیدر ، فقرِ بوذر، صدقِ سلمانی

وہ اُن کے فقر کی طاقت تھی فقر سے الگ کوئی چیز نہیں تھی اور جب بھی توحید کا نفاذ ہوا وہ فقر سے الگ ہوکر نہیں ہوا ۔ ہاں یہ خانقاہی نظام کی کمزوری تھی ، یہ خانقاہی نظام کی کمزوری ہے اِسے دور کرنا ہوگا جس کے متعلق اقبال نے کہا تھا

اِسی میں حفاظت ہے انسانیت کی
کہ ہوں ایک جنیدی و اُردشیری

اگر آپ جنیدی اور اُردشیری کو الگ الگ کر دیں تو اس دنیا میں سب فساد ہوگا جب تک جنید ی اور اُردشیری یکجا ہوں گے اس وقت تک اس زمین کے اوپر امن رہے گا کیونکہ وہ توحید کی حکومت ہوتی ہے وہ فقر کی حکومت ہوتی ہے ۔

سلطان الفقر حضرت سلطان محمد اصغر علی رحمۃ اللہ علیہ نے اِسی چیز کو محسوس کیا کہ اب دُنیا کٹ رہی ہے رُوحانیت سے اور ضرورت ہے کہ اُس جدّت کے ساتھ اُس پیغام کو لے کر آگے پہنچایا جائے اور آگے پھیلا یا جائے اُس کیلئے آپ نے مختلف درسگاہیں قائم کیں ، ضلع ، تحصیل اور یونٹ لیول پہ، آپ نے مختلف طریقوں سے اہتمام کیا اور نوجوانوں کو ، لوگوں کو ، بیٹیوں کو بہنوں کو دعوت دی اور لوگوں کو آپ نے تعلیمات حضرت سلطان باھو (رح)سے رُوشناس کروایا جو خالصتاً جدت کا پیغام ہے اور جن میں ایک لمحہ کیلئے جمود نہیں ایک لمحہ کیلئے بھی تعطل نہیں آپ نے پبلی کیشنز قائم کیے جس میں کتب کے تراجم ہوئے اور لوگوں تک وہ پیغام پہنچا اور آج وہی پیغام ، وہی کتابیں جو حضرت سلطان باھو (رح)کے کتب کی تراجم کی صورت میں ہوں یا وہ بُکس اصلاحی جماعت کے چلتے پھرتے کارکن ہوں ۔ آج آپ مغرب میں جائیں حضرت سلطان باھو کا نام کسی بھی جگہ پہ اجنبی نہیں کہ اِس کی بنیادی وجہ ایک حضرت سلطان باھو کا رُوحانی فیض ہے اور اس کے بعد حضرت سلطان کے آستانہ عالیہ سے چلنے والی یہ انقلابی تحریک ہے جس میں خانقاہ ، رُوحانیت ، اور فقر کی اصل حقیقت کو کھول کر رکھ دیا ہے کہ کائنات کیسے چلتی ہے ؟ کائنات کا نظام کیا ہے ؟ اور اس کے اندر جو خرابیاں اور خرافات ہیں ان کو ٹھیک کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ یہ کنجی آپ نے اُن تعلیمات کے ساتھ کھول دی اور آج گو کہ انتہائی مختصر پیمانے کے مگر اس انقلاب کی بنیاد رکھّی جا چکی ہے کہ جب اِس تحریک کے فیض سے وابستہ بڑے بڑے سیاست دان فیصلے کرتے ہیں تو وہ ایک مرتبہ سوچتے ہیں کہ اِس کے متعلق ہم اپنے اَسلاف کی طرف دیکھیں کہ ہمارے اَسلاف نے کیا رائے قائم کی ہے تو مَیں سمجھتاہوں کہ یہ تبدیلی جو ہم دیکھ رہے ہیں گو کہ انتہائی مختصر پیمانے میں آج نظر آرہی ہے اِس میں تنقید کی گنجائش تو ہوگی لیکن آپ مستقبل میں دیکھیں گے کہ یہ پیغام جیسے جیسے بڑھے گا اُسی طرح اُن لوگوں کے اندر تبدیلیاں آئیں گی اور جب اِس پیغام سے فیض یافتہ لوگ اقتدار کے ایوانوں کے اندر جائیں گے جہاں پہ خلقِ خدا کے فیصلے ہوتے ہیں تو پھر وہ فیصلے قرآن کی روشنی میں ہوں گے ،وہ سنّت کی روشنی میں ہوں گے ، وہ فقر کی روشنی میں ہوں گے،پھر اُن کے اندر جرأت بھی ہوگی ، خود داری بھی ہوگی ، اُن کے اندر غیرت اور حمیّت بھی ہوگی اور پھر اُن کے اندر ایک انفرادیت بھی ہوگی جس سے دُنیا کے اندر سے اِستبداد کا خاتمہ ہوجائے گا اور توحید کا مکمل نفاذ ہوجائے گا اور یہ کائنات ، یہ خدا کا کُنبہ ، یہ عالمِ انسانیت یہ پھر سے اُسی روش پہ چل پڑے گا اور اس طرح معلوم ہوگا کہ شاید اِس کائنات کو تخلیق ہی آج کیا گیا ہو اِتنی پُر امن ہوگی یہ کائنات۔

اِس وقت اِنسانیت کو ، اُمت مسلمہ کو اور وطنِ عزیز اِسلامی جمہوریہ پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے اور جو خطرات درپیش ہیں اُن میں واحد پیغام اور واحد آواز اصلاحی جماعت اور عالمی تنظیم العارفین کی ہے جو اِس کی بقا ٔکی ضامن بن سکتی ہے اور جب مَیں یہ دیکھتاہوں کہ اِنسانیت کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے ؟ انسانوں کے جسموں کی نمائش، اور So Called مہذب معاشروں میں انسانی جسموں کی لگتی ہوئی منڈیاں ، اِستحصالی اور سامراجی طاقتوں کا بڑھتا ہوا اِستحصال اور سامراجی ہتھکنڈے اور دُنیاکے اُوپر Western Stablishment کی حکمرانی کا خواب ، یہ خطرات ہیں انسانیت کیلئے اور دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں ملّتِ اسلامیہ کو تو پچھلے ڈیڑھ صدی سے ڈیڑھ کروڑ مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا اور اِس قتلِ عام کی آواز بلند کرنے والوں کو آج دہشت گرد کہا جاتا ہے آج اِن کو Fundamentalist کہا جاتاہے اور اُمت فرقوں میں تقسیم ہے ۔ مسالک کی زنجیریں ہمارے پائوں سے بندھی ہوئی گھنگھرئوں کی طرح کھنکتی ہیں اور ہمارے چہرے کو نوچ رہی ہیں ۔ وطنِ عزیز پاکستان اِس کی بقا ، اس کی سلامتی پر خطرات منڈ لا رہے ہیں ۔اِن میں ایک طاقتور اور جاندار آواز کا اٹھنا جو Low Profile طریقے سے ، کسی بھی قسم کی ریاکاری سے پاک ہوکے ، اِس پیغام کو لے کے آگے بڑھ رہی ہے اور یہ فیضان ہے اللہ کے نام کا ، اُس کی توحید کا ، گُنبدِ خضریٰ کا اور سلطان الفقر کا ،جو آج جانشین سلطان الفقرکی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے اور اِس لیے آج پوری دُنیا کو اِس پرچم کے نیچے آنے کی ضرورت ہے جہاں کوئی طبقاتی تفریق نہیں ، جہاں اِستحصال نہیں ، جہاں تقسیم نہیں ، جہاں فرقے نہیں ، جہاں لِسانی تضاد نہیں اور پوری دُنیا الخلق عیال اللہکے تحت اِس جھنڈے کے نیچے جمع ہوسکتی ہے ۔ مَیں یہ سمجھتاہوں کہ یہ وہ تحریک ہے جس کا انقلاب آنے والا مؤرخ لکھے گا اور جس کی قربانیاں جو بغیر کسی ریاکاری کے آج اِس معاشرے کے استحکام کے لیے جاری ہے یہ یقینا تاریخ کے بہت سنہری ابواب ہوں گے۔

وقتِ فُرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نُورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے

--
--
From:
[Pak-Friends] Group Member
Visit Group: http://groups.google.com/group/Karachi-786
Subscription: http://groups.google.com/group/karachi-786/subscribe
===========================================================
¸,.-~*'¨¯¨'*·~-.¸¸,.-~*'[PäK¤.¸.¤F®ï£ñD§]'*·~-.¸¸,.-~*'¨¯¨'*·~-.¸
===========================================================
All members are expected to follow these Simple Rules:
-~----------~----~----~----~------~----~------~--~---
Be Careful in Islamic Discussions;
Bad language and insolence against Prophets (and / or their companions, Islamic Scholars, and saints) is an Instant ban.
Abuse of any kind (to the Group, or it's Members) shall not be tolerated.
SPAM, Advertisement, and Adult messages are NOT allowed.
This is not Dating / Love Group, avoid sending personnel messages to group members.
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Pak Friends" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to karachi-786+unsubscribe@googlegroups.com.
To post to this group, send email to karachi-786@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/karachi-786.
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out.

--
--
From:
[Pak-Friends] Group Member
Visit Group: http://groups.google.com/group/Karachi-786
Subscription: http://groups.google.com/group/karachi-786/subscribe
===========================================================
¸,.-~*'¨¯¨'*·~-.¸¸,.-~*'[PäK¤.¸.¤F®ï£ñD§]'*·~-.¸¸,.-~*'¨¯¨'*·~-.¸
===========================================================
All members are expected to follow these Simple Rules:
-~----------~----~----~----~------~----~------~--~---
Be Careful in Islamic Discussions;
Bad language and insolence against Prophets (and / or their companions, Islamic Scholars, and saints) is an Instant ban.
Abuse of any kind (to the Group, or it's Members) shall not be tolerated.
SPAM, Advertisement, and Adult messages are NOT allowed.
This is not Dating / Love Group, avoid sending personnel messages to group members.
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Pak Friends" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to karachi-786+unsubscribe@googlegroups.com.
To post to this group, send email to karachi-786@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/karachi-786.
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out.

Reflection Friday: Standing Up to Hate with Students at UCF

CAIR Logo
A Look at This Week's Issues and Actions
Your Generous Donations At Work!
UCF Event Highlight: Students United Against Hate Speech




 

UCF MSA and Allies (above)
ACT! For America/Matusitz supporters (below) 

 

   

                              

This past Tuesday, CAIR-Florida partnered with the University of Central Florida's Muslim Student Association to host a Rally Against Hate Speech. This event was part of a movement to bring awareness to Jonathan Matusitz, a bigoted professor in the UCF communication department, who is so bad the Pinellas County Republicans canceled his talk which they say "bashes an entire religion." The peaceful event, which attracted over 50 students from all walks of life was picketed by members of Matusitiz's group ACT! For America (his online CV, p. 28, lists him as holding two positions with the group under 'Community Service' though he denies being a member to the media). They were clearly trying to provoke the students with hateful signs and constant interruptions with offensive outbursts like "Muhammad is a murderer and pedophile!" and "Matusitz speaks the truth, Islam causes terrorism!" which ironically showed how very prevalent and inappropriate anti-Muslim hate-speech really is. UCF's MSA and student allies remained calm, cool and collected, proving that the best way to counter hate-speech is to call it out with more free speech!! UCF's Dean of the College of Sciences, Dr. Michael Johnson to whom Professor Matusitz reports, was at the rally. Email him and ask him to investigate Matusitz's connections to ACT! For America, and his course 'Communications and Terrorism'. Watch Matusitz UCF lecture 'How Culture Shapes Terrorism' where he argues Islamic culture (as if it's all one thing) teaches Muslim to kill non-Muslims, that the audience must resist the Muslim takeover, like what we're seeing in Europe. Contact Dean Johnson today!!!

Thanks,
 
Sam Bowden,
CAIR-FL Comm/Outreach Director 

 

Happening This Week:
1) Register for your nearest CAIR-Florida Banquet
2) CAIR-Florida
3) New Government Relations Director
 
Become a Champion of Justice
Gray
 
Community Updates and Events

CAIR Florida

 

Tampa Office
8056 N 56th Street
Tampa, Florida 33617
info@tampa.cair.com
813-514-1414

 

South Florida Office
1601 N. Palm Avenue, 
Suite 203
Pembroke Pines, FL 33026
Phone: (954) 272-0490 
 
Click the Flyer to Register for CAIR-Florida Near You!!

 CAIR's Mid-Florida Banquet lala

 

 CAIR's South-Florida Banquet

Introducing CAIR-Florida's Learning Institute

Developing Cultural Competency : Caring for Muslim Patients

The Council on American Islamic Relations Florida introduces CAIR Florida Learning Institute; a new
series of professional development education and workshops for organizations committed to diversity.


Cultural competency education and training for healthcare professionals and healthcare organizations;including hospitals, healthcare executives, medical directors, physicians, nurses, home healthcare,hospice, and counselors involved in meeting the health care and counseling needs of Muslim patients.


Description
The seminar addresses implications of Muslim demographics, practices and traditions on healthcare delivery. The goal is to provide a cultural knowledge base and tools that can help healthcare professionals understand and facilitate care that is attuned to Muslim beliefs. Topics include; Understanding Islam,

 

You learn more information HERE

Announcing Ghazala Salam as CAIR Florida Government Relations Director.

 

This email was sent to tahir911841@gmail.com by info@tampa.cair.com |  
CAIR-Tampa | 8056 N 56th Street | Tampa | FL | 33617

[PF:172658] Re: Daring to take risks

good 

On Friday, October 4, 2013 11:35:54 AM UTC+5, Rehan Sheikh wrote:

During a robbery in Guangzhou, China, the bank robber shouted to everyone in the bank: "Don't move. The money belongs to the State. Your life belongs to you." Everyone in the bank lay down quietly. This is called ..."Mind Changing Concept" Changing the conventional way of thinking.

When a lady lay on the table provocatively, the robber shouted at her: "Please be civilized! This is a robbery and not a rape!"
This is called "Being Professional" Focus only on what you are trained to do!

When the bank robbers returned home, the younger robber (MBA-trained) told the older robber (who has only completed Year 6 in primary school): "Big brother, let's count how much we got." The older robber rebutted and said: "You are very stupid. There is so much money it will take us a long time to count. Tonight, the TV news will tell us how much we robbed from the bank!"
This is called "Experience." Nowadays, experience is more important than paper qualifications!

After the robbers had left, the bank manager told the bank supervisor to call the police quickly. But the supervisor said to him: "Wait! Let us take out $10 million from the bank for ourselves and add it to the $70 million that we have previously embezzled from the bank".
This is called "Swim with the tide." Converting an unfavorable situation to your advantage!

The supervisor says: "It will be good if there is a robbery every month."
This is called "Killing Boredom." Personal Happiness is more important than your job.

The next day, the TV news reported that $100 million was taken from the bank. The robbers counted and counted and counted, but they could only count $20 million. The robbers were very angry and complained:
"We risked our lives and only took $20 million. The bank manager took $80 million with a snap of his fingers. It looks like it is better to be educated than to be a thief!"
This is called "Knowledge is worth as much as gold!"

The bank manager was smiling and happy because his losses in the share market are now covered by this robbery.
This is called "Seizing the opportunity." Daring to take risks!"


--
http://www.mylivesignature.com/signatures/85860/rehansheik/172ed0a3c8d5a1e8d8dbb56306ac0be0.png
Good programming is 99% sweat and 1% coffee.
http://rehansheik.blogspot.com
If you forward this email, please delete the forward history, including my email address. Remember, erasing the history helps to prevent SPAMMERS from  mining addresses and viruses from being propagated.

--
--
From:
[Pak-Friends] Group Member
Visit Group: http://groups.google.com/group/Karachi-786
Subscription: http://groups.google.com/group/karachi-786/subscribe
===========================================================
¸,.-~*'¨¯¨'*·~-.¸¸,.-~*'[PäK¤.¸.¤F®ï£ñD§]'*·~-.¸¸,.-~*'¨¯¨'*·~-.¸
===========================================================
All members are expected to follow these Simple Rules:
-~----------~----~----~----~------~----~------~--~---
Be Careful in Islamic Discussions;
Bad language and insolence against Prophets (and / or their companions, Islamic Scholars, and saints) is an Instant ban.
Abuse of any kind (to the Group, or it's Members) shall not be tolerated.
SPAM, Advertisement, and Adult messages are NOT allowed.
This is not Dating / Love Group, avoid sending personnel messages to group members.
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Pak Friends" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to karachi-786+unsubscribe@googlegroups.com.
To post to this group, send email to karachi-786@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/karachi-786.
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out.

[PF:172654] 29th Dhu al-Qa'dah | Ra'ees al-Muhaqiqeen Allama Naqi Ali Khan (Alayhir Rahmah)

Ra'ees al-Muhaqqiqeen Hadrat Allama Mawlana
Naqi Ali Khan al-Qadiri Baraylawi (Alayhir Rahmah)

https://fbcdn-sphotos-h-a.akamaihd.net/hphotos-ak-frc3/q71/s720x720/1238382_10151664276500334_1683342996_n.jpg

Allama Mawlana Naqi Ali Khan was born in Jumada al-Aakhir 1246 A.H. (1830). He was the son of the great mystic and scholar, Allama Khwaja Raza Ali Khan s/o Allama Muhammad Kazim Ali Khan s/o Allama Shah Muhammad Azam Khan s/o Allama Sa'adat Yaar Khan s/o Allama Sa'eedullah Khan (Alayhim ar-Rahmah).

Their ancestors had migrated from Qandahar (located in present-day Afghanistan). Born in 1831 C.E. in Bareilly, India. Allama Naqi studied under the auspicious gaze of his noble father (1809-1866), who was a student of Allama Mawlana Khalilrur Rahman Rampuri, may Allah have mercy on him. Mawlana Raza Ali earned certificates of distinction in various fields of sacred knowledge including the science of tasawwuf. He was held in high regard and esteem for his strict adherence to the Qur'an and Sunnah. He was a sagacious Sufi and a valiant freedom fighter. Malik al-Ulama Allama Zafar ud-Din Bihari, may Allah have mercy on him, relates the following miracle [karamat] in volume one of his Hayat-e-AlaHazrat [The Life of AlaHadrat]:

"After the tumult of 1857, the British tightened the reins of power and committed atrocities toward the people, and everybody went about feeling scared. Important people left their homes and went back to their villages. But Mawlana Riza Ali Khan continued to live in his house as before, and would go to the mosque five times a day to say his prayers in congregation. One day some Englishmen passed by the mosque, and decided to see if anyone was inside so they could catch hold of them and beat them up. They went inside and looked around but didn't see anyone. Yet the Mawlana was there at the time. Allah had made them blind, so they would be unable to see him… [When] he came out of the mosque, they were still watching out for people, but no one saw him".

وجعلنا من بين أيديهم سدّا ومن خلفهم سدّا فأغشيناهم فهم لا يبصرون
"And We have set a wall before them and a wall behind them, and covered the top - so they are unable to see anything". [Surah Yaseen, 36:9]

https://fbcdn-sphotos-f-a.akamaihd.net/hphotos-ak-frc3/q77/s720x720/1375226_10151664206930334_2055439130_n.jpg

Allama Naqi Ali Khan (Alayhir Rahmah) was a great Mudarris (Teacher) and a prolific writer. Most of his time was spent in teaching and instilling the excellence of knowledge in the hearts of the people. His students posed intricate questions to him thinking that the Ustaaz will not be able to reply to them. But to their amazement, the Master replied instantaneously with a smile. His deep insight in complicated matters dazzled the contemporary Ulama of his time so much so that they conferred the title of Ra'eesul-Muhaqqiqeen (The Master of the Research Scholars) on him. Indeed, this title befitted him.

Allama Naqi was a disciple (Mureed) and successor (Khalifah) of Sayyid Aal-e-Rasool, the celebrated student and hadith expert [muhaddith] of Shah Abdul Aziz son of Shah Waliyullah, may Allah have mercy on them all. He also received authorization [Ijazah] to narrate hadith in Makkah from the illustrious Ustaz al-Ulama [Teacher of the Ulama], Shaykh al-Haram Sayyid Ahmad Zayni Dahlan Makki, may Allah have mercy on him. Allama Naqi produced a number of texts defending Islamic orthodoxy and laid the foundation of Darul-Ifta in Bareilly Sharif, which became a citadel of faith [iman], knowledge ['Ilm], blessing [Barakah] and awareness of Allah [Taqwa]. It remains an imperturbable stronghold for the Ahl al-Sunnah to the present day. His son, Imam Ahmad Raza, may Allah have mercy on him, relates the following anecdote about his respected father from his Al-Malfuzat [Utterances]:

https://fbcdn-sphotos-a-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash3/q71/s720x720/1233345_10151664207095334_87340068_n.jpg

"[In a dream] Mawlana Barakaat Ahmed (may Allah have mercy on him) accompanied my father to visit me in sickness. They both asked me how I was feeling. I replied, 'I am now tired of the severity of sickness, so please make du'a for me to now leave this duniya [world] with Iman.' On hearing this, my father's face turned red and he said, 'There is still 52 years in Madina Munawwarah.' Allah, the Exalted, knows best what he was referring to. I could not understand what this meant.

Later in my life, the interpretation of this dream unfolded. My second trip to Haramain Shareefayn, I was in my 52nd year. Actually, my age was 51 years and 5 months. My father (may Allah have mercy on him) had foretold this trip 14 years ago [in my aforementioned dream]. Allah, the Exalted, entrusts Ilm-e-Ghayb [knowledge of the unseen] to the servants of Sayyiduna Rasoolullah (may blessings and peace be upon him) and these Wahhabis reject the Ilm-e-Ghaib of the Beloved Nabi (may blessings and peace be upon him).

A few years ago in the month of Rajab, I dreamt of my father, who said, 'You will fall very sick in this Ramadan, but you must not leave the fast.' It happened so. The physician and doctors forced me not to keep fast but I ignored them. By the Grace of Allah (Almighty & Glorious is He) I kept my entire fast and I got better. The Hadith Shareef clearly states: Fast and you will get healthy."

https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-frc3/q72/s720x720/1382224_10151664210095334_1211215699_n.jpg

Allama Naqi Ali (Alayhir Rahmah) was a great lover of the Beloved Habeeb Sayyiduna Rasoolullah (SallAllahu Alayhi wa Sallam) and also remained engrossed in this love all his life. Once he fell very ill and was confined to bed. He laid there in a very depressed mood. The beloved Habeeb (SallAllahu Alayhi wa Sallam) saw the state of pain and depression of his true Aashiq and blessed him. One night, Sayyiduna Rasoolullah (SallAllahu Alayhi wa Sallam) appeared in his dream and compassionately gave him a cup of water to drink. As soon as he drank it, he was instantly cured. He awoke the next morning totally cured and once again healthy. It seemed if he was never sick. 

He wrote more than 50 books on various subjects, among them;
  • Suroor al-Quloob fi Zikri Mawlood al-Mahboob
  • Al-Kalaam al-Awdah fi Tafseer Sura Alam-Nash'rah
  • Wasilatun Najaah
  • Jawahar al-Bayaan
  • Hidayatul Bariyah
  • Ahsanul Wi'a li Aadabi Du'a and etc.
received very high distinctive stature amongst Islamic literature. His treatises are characteristic in its condemnation of the enemies of Islam, both internally and externally.

https://fbcdn-sphotos-e-a.akamaihd.net/hphotos-ak-prn1/q71/s720x720/941380_10151420480335334_116146558_n.jpg

Allama Naqi Ali (Alayhir Rahmah) passed away on 29th Dhu al-Qa'dah 1297 A.H. (1880) at the time of Zuhar and was laid to rest besides his illustrious father, Taaj al-Aarifeen Imam Muhammad Raza Ali (Alayhir Rahmah). His Mazaar Shareef is in Bareilly Shareef, India. Allama Naqi Ali Khan devoted every moment of his life to Allah the Exalted and His Messenger, may blessings and peace be upon him. He preserved the scholarly tradition, and defended Islamic orthodoxy and mainstream Sufism.

Due to this sincerity, the last thing that he wrote on a piece of paper was "Bismillahir Rahmaanir Raheem". The last word that he uttered before he passed away was "Allah". May Almighty Allah sanctify his soul and grant him proximity to his Creator.

May Allah Most High sanctify his soul and grant him proximity to his Creator, Almighty and Glorious is He... Aameen!

https://fbcdn-sphotos-b-a.akamaihd.net/hphotos-ak-frc3/q71/s720x720/1381279_10151664210150334_190828161_n.jpg

--
--
From:
[Pak-Friends] Group Member
Visit Group: http://groups.google.com/group/Karachi-786
Subscription: http://groups.google.com/group/karachi-786/subscribe
===========================================================
¸,.-~*'¨¯¨'*·~-.¸¸,.-~*'[PäK¤.¸.¤F®ï£ñD§]'*·~-.¸¸,.-~*'¨¯¨'*·~-.¸
===========================================================
All members are expected to follow these Simple Rules:
-~----------~----~----~----~------~----~------~--~---
Be Careful in Islamic Discussions;
Bad language and insolence against Prophets (and / or their companions, Islamic Scholars, and saints) is an Instant ban.
Abuse of any kind (to the Group, or it's Members) shall not be tolerated.
SPAM, Advertisement, and Adult messages are NOT allowed.
This is not Dating / Love Group, avoid sending personnel messages to group members.
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Pak Friends" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to karachi-786+unsubscribe@googlegroups.com.
To post to this group, send email to karachi-786@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/karachi-786.
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out.